Fatwa: # 45918
Category: Jurisprudence and Rulings...
Country: African Country
Date: 11th August 2020

Title

Is it permissible to insure goods in transit?

Question

As Salaamu Alaykum Wa Rahmatullahi Wa Barakaatuh.
Respected Mufti Saheb
I am aware that any type of insurance is considered Haraam in Islam. I regularly courier goods from point A to B. These goods are of high value and it has become a high risk item.
Is it permissible to insure the goods in transit?
JazakAllah

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

Brother,

We commend you on your enthusiasm to ensure that your business dealings are Halaal.

Your understanding is correct, that conventional insurance is prohibited. We also understand your predicament.

Do you have any alternative options so that we may consider the Shariah positions of those alternatives? For example, if it is a non-Muslim company, they could insure the goods and charge you a higher fee for the transportation of the goods. The company may include the insurance amount in the fee.

If you have some other options, let us know so that we may consider those options.

And Allah Ta’āla Knows Best

Ahmad Patel

Student Darul Iftaa

South  Africa


Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

 


 امداد الفتاوی3/310-313

جہاز کے بیمہ کرنے کی صورتیں اوران کا جواز یاعدم جواز

سوال (۱۸۵۹) : قدیم ۳/ ۳۱۰- نمبر۱ جو مال بیمہ کراکر جہاز میں روانہ کیا جاتا ہے یعنی جب جہاز روانگی کے واسطے تیار ہوتا ہے تو ایک شخص اس مال کی ذمہ داری لیتا ہے کہ اگر یہ مال فلاں مقام پر خیریت سے نہیں پہنچا اور راہ میں کچھ یا کل کا نقصان ہوگیا تو میں اس نقصان کو پورا کروں گا، اور مالک مال سے بیمہ کرنے والا ۸؍ آٹھ ہزار کے حساب سے پیشگی روپیہ لے کر جہاز ران کو لنگر اٹھانے کا حکم دیتا ہے یہ معاملہ شریعت میں جائز ہے یا نہیں ۔
نمبر (۲): اگر یہ بیمہ مالکِ جہاز کرے اس صورت سے کہ معمولی کرایہ سے دو چند یا سہ چند کرایہ لے کر مال بھرے اور نقصان کا ذمہ دار رہے تو جائز ہے یا نہیں ۔ اگر ناجائز ہے تو جو بیمہ پارسل ڈاک خانہ میں کرایا جاتا ہے، اس میں اور اس میں کیا فرق ہے نقصان اور ضائع ہونے کے احتمالات ہر دو جگہ موجود ہیں ۔
نمبر (۳): جو مال بیمہ کراکے جہاز میں روانہ کیا جاتا ہے اس مال میں تو کوئی نقص وخرابی نہیں آتی اور اس کی خرید وفروخت جائز ہے یانہیں ۔
الجواب: نمبر(ا-۲) اول چند مسئلے معلوم کر لئے جاویں ، پھر جواب سوال کا سمجھنا سہل ہوگا۔ کفالت خاص ہے حق مضمون کے ساتھ۔
في الدرالمختار، کتاب الکفالۃ: وأما کفالۃ المال فتصح، ولو المال مجھولا إذا کان ذلک المال دینا صحیحا ھو ما لا یسقط إلا بالإبراء أو بالأداء (۱)۔

)۲) في الدرالمختار، کتاب الإیداع: وھي أمانۃ فلا تضمن بالھلاک إلا إذا کانت الودیعۃ بأجر الخ (۱)۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ جس امانت کی حفاظت پر اجرت لی جاوے تلف سے اس کا ضمان لازم ہوتا ہے۔
)۳) في الدرالمختار، باب ضمان الأجیر: ولا یضمن (أی الأجیر المشترک) ما ھلک في یدہ وإن شرط علیہ الضمان؛ لأن شرط الضمان في الأمانۃ باطل کالمودع -إلی قولہ- خلافاً للأشباہ، وفي ردالمحتار: أی من أنہ إن شرط ضمانہ ضمن إجماعاً ح وھو منقول عن الخلاصۃ وعزاہ ابن الملک للجامع، وفي رد المحتار قولہ: ولا یضمن الخ، اعلم أن الھلاک إما بفعل الأجیر أولا، والأول: إما بالتعدی أولا، والثاني: إما أن یمکن الاحتراز عنہ أولا،  ففی الأول بقسمیہ یضمن اتفاقًا، وفي ثاني الثاني لا یضمن اتفاقًا، وفي أولہ لا یضمن عند الإمام مطلقًا، ویضمن عندھما مطلقًا(۱)۔
اس سے معلوم ہوا کہ اجیر مشترک کے ہاتھ میں ہلاک ہونے کی چند صورتیں ہیں ، جن میں اصل مذہب کے اعتبار سے تفصیل ہے، لیکن اشباہ میں اشتراط ضمان سے ضمان کا فتویٰ دیا ہے، اب جواب سوال کا لکھا جاتا ہے، وہ یہ کہ جہاز والا اجیر مشترک ہے، اصل مذہب کے اعتبار سے دو صورتوں میں وہ ضامن ہے، ایک وہ جہاں ہلاک بفعل اجیر ہو، خواہ بتعدی یا بلا تعدی، اور ایک صورت میں ضمان نہیں ہے، یعنی جہاں ہلاک بدون فعل اجیر ہو اور اس سے احتراز بھی نہ ہو سکے، جیسے غرق وغیرہ ، اور ایک صورت میں اختلاف ہے، جہاں ہلاک بدون فعل اجیر ہو اور احتراز ہو سکے، پس اگر جہاز والے نے یہ شرط نہیں ٹھہرائی کہ ہم تمہارے اسباب تلف شدہ کے ذمہ دار وضامن ہیں ، تب تو بعض صورتوں میں وہ ضامن ہے بعض میں نہیں ، اوربعض میں اختلاف ہے ،جس میں گنجائش ضمان کے قول پر عمل کرنے کی ہے اور اگر جہاز والے نے ذمہ داری کر لی ہے تو بقول اشباہ وہ ہر صورت میں ضامن ہے، اس تفصیل سے تو تعیین ہو گئی اور صورتوں کی جن میں جہاز

والے کے ذمہ ضمان ہے، اور جن میں اس کے ذمہ ضمان نہیں ہے۔ اور اس کا ماخذ مسئلہ نمبر:۳ ہے، پس اگر بیمہ والی کمپنی نے ان مذکورہ صورتوں میں سے کسی ایسی صورت میں بیمہ (جس کی حقیقت ضمانت ہے)کیا ہے جس میں جہاز والے کے ذمہ ضمان ہے تب تو یہ بیمہ جائز ہے، اور اگر ایسی صورت میں بیمہ کیا ہے جس میں جہاز والے کے ذمہ ضمان نہیں ہے تو بیمہ جائز نہیں جیسا مسئلہ نمبر: ۱ میں مذکور ہے کہ صحت کفالت کے لئے اس حق کا مضمون ہونا شرط ہے، یہ جو کچھ لکھا گیا جب ہے کہ دوسری کمپنی بیمہ کرے اور اگر جہاز والے خود بیمہ کریں ، تو اس کی حقیقت یہ ہوگی کہ اجیر مشترک پر ضمان کی شرط ہوئی، یہ بقول اشباہ ہر حال میں جائز ہوگا، اور ڈاک خانہ کا بیمہ اسی میں داخل ہے کہ خود عامل شرط ضمان قبول کرتا ہے اور اگر ایسی صورت کی جاوے کہ مال پہنچانے کا معاوضہ تو جہاز والوں کو دیا جاوے اور انتظام حفاظت مال کا معاوضہ بیمہ کی کمپنی کو دیا جاوے کہ وہ اپنا آدمی خاص حفاظت ونگرانی کے لئے جہاز میں رکھیں تو اس صورت میں کمپنی کا بیمہ کرنا ہر حال میں جائز ہے خواہ جہاز والوں پر شرعاً ضمان ہو یا نہ ہو جیسا مسئلہ نمبر۱ میں مذکور ہے، خلاصہ یہ کہ خود جہاز والے کا بیمہ اور کمپنی جب اپنا آدمی حفاظت کے لئے جہاز میں رکھے اس وقت کمپنی کا بیمہ یہ دو صورتیں تو مطلقاً جائز ہیں ، اور اگر جہاز والے بیمہ نہ کریں اور نہ کمپنی اپنا آدمی جہاز میں رکھے تو جن صورتوں میں جہاز والوں پر شرعاً ضمان ہے ان میں بیمہ کمپنی کا جائز ہے (۱) اور جن صورتوں میں جہاز والوں پر ضمان نہیں ہے ان میں بیمہ کمپنی کا جائز نہیں اور ان صورتوں کی تفصیل اوپر لکھی جا چکی ہے۔

جواب (۳): کسی بیمہ کے ناجائز ہونے سے مال میں خبث نہیں آتا (۱) ۔ واللہ اعلم
۱۵؍صفر ۱۳۳۰؁ ھ(تتمہ اولیٰ ص۱۸۰ وحوادث اولیٰ ص۳۷(

فتاوى محمودية، ج16 ص390،ادارة الفاروق كراشي

اسلام اور جديد معاشی مسائل ج3 ص317 ادارۃ اسلاميات 

عصر حاضر کے پيچيدا مسائل ج2 ص180 الطاف ايند سنز

فتاوی دار العلوم زکريا ج5 ص443 زمزم 

Contemporary fatawa pg252 idara-e-ishaat [3]

فتاوی دار العلوم زکريا ج5 ص44زمزم

امداد الفتاوی ج3 ص149 دار العلوم کراتشی

 

DISCLAIMER - AskImam.org questions
AskImam.org answers issues pertaining to Shar'ah. Thereafter, these questions and answers are placed for public view on www.askimam.org for educational purposes. However, many of these answers are unique to a particular scenario and cannot be taken as a basis to establish a ruling in another situation or another environment. Askimam.org bears no responsibility with regards to these questions being used out of their intended context.
  • The Shar's ruling herein given is based specifically on the question posed and should be read in conjunction with the question.
  • AskImam.org bears no responsibility to any party who may or may not act on this answer and is being hereby exempted from loss or damage howsoever caused.
  • This answer may not be used as evidence in any Court of Law without prior written consent of AskImam.org.
  • Any or all links provided in our emails, answers and articles are restricted to the specific material being cited. Such referencing should not be taken as an endorsement of other contents of that website.
The Messenger of Allah said, "When Allah wishes good for someone, He bestows upon him the understanding of Deen."
[Al-Bukhari and Muslim]