Category: Jurisprudence and Rulings (Fiqh)
Fatwa#: 39331
Asked Country: India

Answered Date: Nov 10,2017

Title: Can my wife change her madhab?

Question

میری بیوی نے تقریباً تین سال پھلے اپنا مسلک شافعی سے حنفی میں تبدیل کیا تھا - چونکہ میں جانتا ھوں کہ ایک عامی کو عام حالات میں مسلک تبدیل کرنے کی اجازت نھی ھے- اسلئے مینے انسے تبدیلئ مسلک کی وجوھات پونچھی- انھونے مندرجہ ذیل وجوھات بتائی ھیں۱) انھیں شافعی مسلک کے علماء اور اسکی کتابوں کی جانکاری نھی تھی- اور انکے بھائی اور والد دوسرے ملک میں رھتے تھے کہ اسلئے وہ انکے ذریعے بھی مسائل نھی پوچھ سکتی تھی

-۲) وہ دوسری شافعی عورتوں سے مسائل پوچھتی تھیں لیکن ان کے جوابوں میں تزاد ھونے کی وجہ سے

 رھتی تھیں confused

-۳) چونکہ اس وقت انکا حیض آگے پیچھے ھوتا تھا تو شوافع کےپندرہ دن کے علاوہ اور بھی دن بڑھ جاتے تھے بے ترتیب حیض کی وجہ سے- اس وجہ سے ھر مھینے کافی دنوں تک نماز قرآن سے دور رھنا پڑتا تھا جس سے انکی روحانیت پر اثر پڑتا تھا روزوں کی قضا بھی ادا نھی کرپاتی تھیںاسلئے انھونے تبدیلئ مسلک کا سوچا تاکہ انکی پریشانیاں کچھ کم ھوں

4)کیونکہ احناف میں حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت ۱۰ دن ھے اسلئے انھونے حنفی مسلک چنا- تاکہ زیادہ دن طھارت کے انھیں ملیں تو وہ نماز روزوں کی قضا بھی ٹھیک سے ادا کر سکیں

۵) چونکہ وہ عالمیت کا کورس کررھی تھیں جس میں  انھونے شوافع اور احناف دونوں کے بارے میں پڑھا تو انھیں لگا کہ وہ مسلک شافعی پر سنجیدگی سے عمل نھی کر پارھی تھیں- اور مسلک احناف پر وہ سنجیدگی سے مکمل عمل کر پائینگی

-----------------------------------------------------------------------------------

 اب میں یہ جاننا چاھتا ھوں کہ انکا تبدیلئ مسلک کا فیصلہ صحیح تھا کہ نھی- مجھے مندرجہ اشکالات ھیں۔

پھلی وجہ جو انھونے بتائی ھے وہ مجھے انکی کاھلی اور شوافع کے مسائل معلوم کرنے میں عدم سنجیدگی لگتی ھے- کیونکہ ممبئی اور پاس ھی کوکن شوافع علماء اور کتابوں کی بھرمار ھے- اور بھائی اور والد کی عدم موجودگی میں وہ بذات خود کسی مفتی سے سوالات پوچھ سکتی تھیں مگر انھونے اس معاملے میں سنجیدگی نھی برتی- اسکا انھیں خود بھی اعتراف ھے-

دوسری وجہ بھی معقول نھی ھے کیونکہ مسائل علماء سے پوچھے جاتے ھیں عامیوں سے نھی

تیسری وجہ جو بتائی وہ بھی معقول نھی کیونکہ علاج کے ذریعے حیض کو ترتیب وار بنا یا جا سکتا تھا- 
انھونے علاج کیا لیکن مسلک تبدیل کرنے کے بعد  - علاج کے ذریعے انکا ماھواری حیض کی ترتیب بھی ٹھیک ھوگئی- 
کیا صرف حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت کم کرنے کے لئے مسلک تبدیل کرنا جائز ھے؟ حالانکہ اس سوال کا جواب انکے پاس اس وقت بھی نھی تھا اور اب بھی نھی ھے - پھر بھی انھونے مسلک تبدیل کیا-

کیونکہ بغیر کسی وجہ مسلک تبدیل کرنا سخت گناہ ھے میرے علم کے مطابق بعض علماء نے تعزیری سزا تک کا فتوٰی دیا ھےاسلئے اب وہ جاننا چاھتی ھیں کہ انکا مسلک تبدیل کرنا صحیح تھا کہ نھی۔ اور اگر غلط تھا تو کیا انھیں دوبارہ شافعی مسلک پر لوٹنا چاھئے اور اس غلطی کی سزا یا کفارہ کیا ھے؟ 

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, The Most Merciful.

As-salaamu `alaykum wa-ramatullahi wa-barakatuh.

اس سے پہلے کے ہم آپ کو کچہ نصيحت کرے، آپ مندرجہ ذيل سوالات کے جوابات دے

1۔آپ کس مذھب کی تقلید کرتے ہے ؟

2۔کیا آپ کو آپ کی بيوی کا حنفی مذھب پر ہونے سے کوي اشکال یا کوي مشکل ہو رہي ہے؟

ان سوالات کے جوابات نيچہے درج کیے اڈرس پر ارسال کرے

 

 

And Allah Ta`ala Knows Best.

Hussein Muhammad.

Student Darul Iftaa

Tanzania

Checked and Approved by:

Mufti Ebrahim Desai.

 

وعلیکم السلام 

 

۱) میں  شافعی مسلک پر عمل کرتا ھوں ۔

۲) مجھے جو اشکال ھیں وہ نیچے لکھ رھا ھوں

 

میری بیوی نے تقریباًتین سال پھلے اپنا مسلک شافعی سے حنفی میں تبدیل کیا تھا - چونکہ میں جانتا ھوں کہ ایک عامی کو عام حالات میں مسلک تبدیل کرنے کی اجازت نھی ھے- اسلئے مینے انسے تبدیلئ مسلک کی وجوھات پونچھی- انھونے مندرجہ ذیل وجوھات بتائی ھیں

۱) انھیں شافعی مسلک کے علماء اور اسکی کتابوں کی جانکاری نھی تھی- اور انکے بھائی اور والد دوسرے ملک میں رھتے تھے کہ اسلئے وہ انکے ذریعے بھی مسائل نھی پوچھ سکتی تھی -

۲) وہ دوسری شافعی عورتوں سے مسائل پوچھتی تھیں لیکن ان کے جوابوں میں تزاد ھونے کی وجہ سے تشویش میں رھتی تھیں-

۳) چونکہ اس وقت انکا حیض آگے پیچھے ھوتا تھا تو شوافع کےپندرہ دن کے علاوہ اور بھی دن بڑھ جاتے تھے بے ترتیب حیض کی وجہ سے- اس وجہ سے ھر مھینے کافی دنوں تک نماز قرآن سے دور رھنا پڑتا تھا جس سے انکی روحانیت پر اثر پڑتا تھا روزوں کی قضا بھی ادا نھی کرپاتی تھیں

اسلئے انھونے تبدیلئ مسلک کا سوچا تاکہ انکی پریشانیاں کچھ کم ھوں-

(4 کیونکہ احناف میں حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت ۱۰ دن ھے اسلئے انھونے حنفی مسلک چنا- تاکہ زیادہ دن طھارت کے انھیں ملیں تو وہ نماز روزوں کی قضا بھی ٹھیک سے ادا کر سکیں

۵) چونکہ وہ عالمیت کا کورس کررھی تھیں جس میں  انھونے شوافع اور احناف دونوں کے بارے میں پڑھا تو انھیں لگا کہ وہ مسلک شافعی پر سنجیدگی سے عمل نھی کر پارھی تھیں- اور مسلک احناف پر وہ سنجیدگی سے مکمل عمل کر پائینگی

اب میں یہ جاننا چاھتا ھوں کہ انکا تبدیلئ مسلک کا فیصلہ صحیح تھا کہ نھی- مجھے مندرجہ اشکالات ھیں۔

 

پھلی وجہ جو انھونے بتائی ھے وہ مجھے انکی کاھلی اور شوافع کے مسائل معلوم کرنے میں عدم سنجیدگی لگتی ھے- 

کیونکہ ممبئی اور پاس ھی کوکن شوافع علماء اور کتابوں کی بھرمار ھے- 

اور بھائی اور والد کی عدم موجودگی میں وہ بذات خود کسی مفتی سے سوالات پوچھ سکتی تھیں مگر انھونے اس معاملے میں سنجیدگی نھی برتی- اسکا انھیں خود بھی اعتراف ھے-

 

دوسری وجہ بھی معقول نھی ھے کیونکہ مسائل علماء سے پوچھے جاتے ھیں عامیوں سے نھی-

 

تیسری وجہ جو بتائی وہ بھی معقول نھی کیونکہ علاج کے ذریعے حیض کو ترتیب وار بنا یا جا سکتا تھا- 

 

انھونے علاج کیا لیکن مسلک تبدیل کرنے کے بعد  - علاج کے ذریعے انکا ماھواری حیض کی ترتیب بھی ٹھیک ھوگئی- 

 

کیا صرف حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت کم کرنے کے لئے مسلک تبدیل کرنا جائز ھے؟ حالانکہ اس سوال کا جواب انکے پاس اس وقت بھی نھی تھا اور اب بھی نھی ھے - پھر بھی انھونے مسلک تبدیل کیا-

 

کیونکہ بغیر کسی وجہ مسلک تبدیل کرنا سخت گناہ ھے میرے علم کے مطابق بعض علماء نے تعزیری سزا تک کا فتوٰی دیا ھے

اسلئے اب وہ جاننا چاھتی ھیں کہ انکا مسلک تبدیل کرنا صحیح تھا کہ نھی۔ اور اگر غلط تھا تو کیا انھیں دوبارہ شافعی مسلک پر لوٹنا چاھئے اور اس غلطی کی سزا یا کفارہ کیا ھے؟

 

Answer:         

In the Name of Allah, the Most Gracious, The Most Merciful.

As-salaamu `alaykum wa-ramatullahi wa-barakatuh.

تقليد کا مقصد شريعت پر عمل کرنا ہے اور اتباع ہوی سے بچنا ہے، اگر آدمي کسي ایک مذھب کی تقليد نہ کرے تو بہت ممکن ہے وہ اپني منماني خواہشات کے مطابق عمل کرے گا،

اس سے بچنے کے لۓ تقليد کو ضروري قرار ديا گيا،

اب آپ کي بيوي نے مذھب بدل ديا اور حنفي مذھب پر مکمل عمل کر رہي ہے تو مذھب حنفي پر عمل کرتي رہے،

دوبارہ مذھب بدلنے کي ضرورت نہيں ہے، مذھب بدلنے کا کوي کفارہ نہین ہے۔

 

And Allah Ta`ala Knows Best.

Hussein Muhammad.

Student Darul Iftaa

Tanzania

Checked and Approved by:

Mufti Ebrahim Desai.

 

 

DISCLAIMER - AskImam.org questions
AskImam.org answers issues pertaining to Shar'ah. Thereafter, these questions and answers are placed for public view on www.askimam.org for educational purposes. However, many of these answers are unique to a particular scenario and cannot be taken as a basis to establish a ruling in another situation or another environment. Askimam.org bears no responsibility with regards to these questions being used out of their intended context.
  • The Shar's ruling herein given is based specifically on the question posed and should be read in conjunction with the question.
  • AskImam.org bears no responsibility to any party who may or may not act on this answer and is being hereby exempted from loss or damage howsoever caused.
  • This answer may not be used as evidence in any Court of Law without prior written consent of AskImam.org.
  • Any or all links provided in our emails, answers and articles are restricted to the specific material being cited. Such referencing should not be taken as an endorsement of other contents of that website.